تاریخ

شیخ الاکبر ابنِ عربی و(ابن العربی)

ابن عربی

(شیخ الاکبر ابنِ عربی و(ابن العربی

Ibn-ul-Arabi-BTV-PDF

ابن ِ عربی یاابن العربی ایک ایسانام جن کے بارے میں ہرکوئی جاننے کااشتیاق رکھتاہے۔تاریخ میں انھیں نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ تاریخی واقعات کے بارے میں جاننااوران پرتحقیق کرناہماری ذمہ داری ہے۔ایک عالم کی طاقت ایک لاکھ جاہلوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگرہم اپنی تاریخ فراموش کردیں گے تواپنی آنے والی نسلوں کوکیامنتقل کریں گے۔

ابنِ عربی کون تھے؟

ابنِ عربی17رمضان بمطابق 26جولائی 1165ء کو جنوبی اسپین کے شہرمرسیا میں پیداہوئے۔ان کاپورا نام ابوبکرمحمد بن العربی الحاتمی الطائی ہے۔آپکا تعلق عربوں کے قدیم قبیلے “طے ” سے تھا۔ مشرق والے خصوصاً وہ لوگ جنکی مادری زبان فارسی ہے آپ کو ابن العربی کہتے ہیں۔

کنیت۔خطاب۔لقب

ان کی کنیت ابوبکرہے لیکن کچھ تذکرہ نگار ابو عبداللہ درج کرتے ہیں۔ ان کے یہ دونوں حوالے ہی معروف ہیں۔ ابنِ عربی” شیخ اکبر “کے خطاب سے جانے جاتے ہیں۔انکا لقب محی الدین ہے۔

زندگی کے ابتدائی ایام

انھوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام مرسیہ میں گزارے۔اس کے بعد وہ اشبیلہ روانہ ہوگئے۔مرسیہ کی یاسمین اورقرطبہ کی فاطمہ جو بزرگ درویش خواتین تھیں ان سے ملاقاتیں کیں۔ ان کی زندگی پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ فاطمہ دوسال تک روحانی والدہ کے طور پر روحانی مرشد کافریضہ انجام دیا۔

ابن عربی کاخاندان

آپ کاخاندان اندلس میں آباد تھا۔جس کی وجہ سے آ پ ہمیشہ اس سے جڑے رہے۔ اندلس میں آپ کے والدین، دوغیرشادی شدہ بہنیں، قریبی عزیزاورآپ کی زوجہ مریم بنت محمد بن عبدون بھی قیام پذیر تھیں۔وہ بہت پرہیزگاراورپاکیزہ خاتون تھیں۔انھوں نے ابن عربی کے ساتھ روحانیت کے کئی مراحل طے کئے۔

شیخ اکبرکی پوری زندگی روحانی کیفیات سے مزین ہے

ابنِ عربی تقریباً بیس سال کی عمر تک اندلس کے شہروں میں گھومتے رہے۔ابنِ عربی کایہ دورکافی اہم ہے۔اس دوران انکی روحانی طاقت میں روزبروز اضافہ ہورہاتھا۔علم کے دروازے ان پرکھل رہے تھے۔ان برسوں میں شیخ کوعرفانی مشاہدات کاتجربہ ہورہاتھا۔

اس کاتفکر وتامل اسے وہاں نہیں لے جاسکتاجہاں میں ہوں

یہ الفاظ ابنِ عربی نے ارسطو کے فلسفی ابن رشد کے بارے میں کہے۔ابنِ عربی جب ان سے ملے تووہ بھی روحانی علم کی منزلیں طے کررہے تھے۔ ابن رشد سے دوسری ملاقات کاسبب بھی روحانیت تھی۔ اس ملاقات میں فرق صرف اتناتھاکہ ابن رشد، ابنِ عربی کی موجودگی سے غافل رہے۔ اس کی وجہ روشنی کاوہ پردہ تھاجوان دونوں کے بیچ میں حائل رہا۔

ابنِ عربی مسلم تاریخ کے زود نویس مصنف مانے جاتے ہیں

انھوں نے بے شمار تصانیف تحریر کیں۔ جس کی وجہ سے وہ محققین کے لئے بہت اہمیت کے حامل تھے۔انکی تصانیف کی حتمی تعداد کاتعین کرنامشکل ہے کیونکہ محققین کے مطابق اس تعداد میں تضاد پایاجاتاہے۔

جیسے الفاظ استعمال کئے۔”colossal fecundity” بروکلمان نے آپ کی اس خوبی کے لئے 

   انکی کل تحریروں کی تعداد 140بتائی جاتی ہے تاہم حتمی تعداد کاتعین محال ہے۔ عبدالوہاب شیرانی یہ تعداد 400 بتاتے ہیں۔ جبکہ محمد رجب حلیمی کے مطابق تصانیف کی تعداد    284ہے۔

عربوں میں تصوف کی مستحکم روایت

اے۔ای۔ عفیفی ابن عربی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
” اسلامی تصوف صرف ایرانیوں ہی کا مرہون منت نہیں بلکہ عربوں کی میراث بھی اس میں شامل ہے۔”
اے۔ای۔ عفیفی کی تحریر سے اس بات کا پتہ چلتاہے کہ تصوف کاسلسلہ آپ کے خاندان میں پہلے سے موجود تھا۔ ابنِ عربی کے والد سمیت دوماموں ابومسلم الخولانی اور یحییٰ بن یغمان اپنے عہد کے مشہور صوفیاگزرے ہیں۔ یہاں تک کے تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کے چچاابومحمد عبداللہ بن محمد بن العربی کواپنی وفات سے تین برس قبل ہی ولایت نصیب ہوئی تھی۔

اسلامی تصوف اورابن عربی

بہترین قول ذکر ہے اوربہترین فعل عبادت ہے جبکہ بہترین خصلت علم ہے۔علم سے انسان اللہ کاقرب حاصل کرتاہے۔ ابنِ عربی صرف فلسفی یاصوفیانہ صلاحیتوں کے مالک نہیں تھے۔وہ سماجی واسلامی علوم جیسے تفسیر قرآن، حدیث کاعلم، اصول فقہ، سیرت، نفسیات، صوفیانہ شاعری اوردیگر پیچیدہ مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ویرانوں میں گھومنا اورذکرِ الہٰی کرنا انکے معمول میں شامل تھا۔ انھوں نے روحانیت کے مشکل مراحل بہت جلد طے کرلئے تھے۔

روحانی تجربات کے بعد آپ نے فَقر اپنالیا

آپ کے مرشد شیخ یوسف بن یخلف الکومی نے اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کی۔ ابنِ عربی نے تصوف کی اصل معراج براہ راست حضرت خضرؑ سے حاصل کی۔ ان کی تصنیف فتوحات مکیہ میں حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت موسیٰ ؑ اورنبی اکرم ﷺ کی رہنمائی کاذکر بھی شامل ہے۔ابنِ عربی کے نزدیک حضرت محمدؐ ایک کامل ہستی ہیں۔ وہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے خاصی عقیدت اورمحبت رکھتے تھے۔وہ اس بات کومانتے تھے کہ آپؐ کی ذاتِ مبارکہ میں خدا اور کائنات کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ابنِ عربی علم کے حصول کے لئے دوردراز سفر کرتے تھے۔شمالی افریقہ میں آپ کو ایسے صوفیاکرام ملے۔ جنھوں نے آپ کی روحانی تربیت میں اہم کرداراداکیا۔

فتوحاتِ مکیہ فی معرفہ الاسرار المالکیہ و الملکیہ

والد کی وفات کے بعد آپ نے تمام جائیداد وغیرہ کے ضروری کام کئے اور اپنے باقی ماندہ خاندان کے ساتھ فاس روانہ ہو گئے۔ اسی جگہ آپ نے دونوں بہنوں کی شادی کے فرائض انجام دیئے۔ والد کی وفات کے سات سال بعد آپ کی والدہ کابھی انتقال ہوگیا۔اس کے بعدآپ مختلف علاقوں کے سفر پر نکل گئے۔ ایک روحانی حکم کے تحت انھوں نے مشرق کارخ کیااور 1201ء میں خانہ کعبہ کی زیارت کی۔ جب آپ مکہ پہنچے تو یہیں اپنی شہرہ آفاق تصنیف فتوحات مکیہ کی بنیادرکھی۔ اس کتاب کا پورا نام ”فتوحاتِ مکیہ فی معرفہ الاسرار المالکیہ و الملکیہ“ ہے۔کچھ عرصہ مکہ میں قیام کرنے کے بعد آپ ترکی روانہ ہوگئے۔

ابن ِ عربی کی تصانیف

انکی تحریریں گہری بصیرت پرمشتمل ہوتی ہیں۔ان کی تصانیف کاچرچامشرق ومغرب تک پھیلاہواہے۔کئی کتابیں آپ کے نام سے منسوب ہیں جنمیں سے بیشترعظیم کتب خانوں میں موجود ہیں۔ابن عربی کی دوکتابیں “فصوص الحکم ” اور”فتوحات ِ مکیہ ” بہت مقبول ہیں۔ان کی کتابوں کاترجمہ اورتشریح انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی،اطالوی اورجرمن جیسی اعلیٰ ترقی یافتہ زبانوں میں ہوچکاہے۔برطانیہ کے ایک پبلشر ” عنقاء “نے ابن عربی پرآٹھ کتابیں انگریزی میں شائع کی ہیں۔

ابن عربی کاسفر آخرت

ء1204 موصل کے سفر میں حضرت خضر ؑ سے آپ کی تیسری ملاقات ہوئی۔اس کے بعدآپ  قاہرہ چلے گئے۔ لیکن وہاں کی مذہبی اورسرکاری جماعتوں نے آ پ کیلئے بہت سے مصائب پیدا کیے اور آپ کی جان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت میں شیخ ابوالحسن نے آپ کی جان بچائی۔
ء 1207میں مصر کے لوگوں نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ پھر آپ مشرقِ وسطیٰ کے سفر پر روانہ ہو گئے اور دمشق کو اپنا آخری ٹھکانہ بنایا۔ 16نومبر1240ء کو اسی مقام پر رحلت فرمائی۔

بقول سید حسین نصر

“آپ کو دمشق کی جانب شمال قاسیون کی پہاڑی کے دامن میں بمقام صالحیہ ایک ایسی زمین کے قطعہ میں دفن کیا گیا جو پہلے ہی بڑا متبرک تھا۔ تمام پیغمروں نے اس جگہ کو تقدیس عطا کی۔” ابن عربی کی تدفین کے بعد وہ جگہ پہلے سے بھی زیادہ عظیم زیارت گاہ بن گئی۔سلطان سلیم دوم نے سولہویں صدی میں ان کی قبر پرمقبرہ تعمیر کرا دیا جو ابھی تک سلامت ہے اور خاص مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

Leave a Comment